Naya Nizam - نیا نظام
Home About Provinces Feedback
Administrative Decentralization Case

Why Pakistan Needs More Provinces

25 کروڑ عوام کو 4 صوبائی دفاتر سے نہیں چلایا جا سکتا

With 250+ million citizens, Pakistan is the 5th most populous country on Earth, yet it remains compressed into just 4 giant administrative units. Creating 12 to 18 administrative provinces / units is essential to deliver justice, equitable budget distribution, and local governance.

127M+
Punjab Population
Larger than UK / Japan
44% Area
Balochistan Land
Run from a single city
5th in World
Pakistan Citizens
Yet only 4 provinces
14+ Hours
Travel for Justice
Distance to secretariats

نئے صوبے نیا نظام ۔۔ روشن پاکستان کی ضمانت

کیا ہم ایک ناکام ریاست ہیں یا ہمارا نظام ناکام ہو چکا ہے؟ پچیس کروڑ سے زائد انسانوں کی دھرتی، قدرتی وسائل سے مالا مال ایک وسیع و عریض خطہ۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ہر دن ایک نیا بحران، ہر صبح معاشی دھچکا اور ہر شام ایک نیا سیاسی تماشا، عوام ہمیشہ سے معاشی اور سماجی انصاف سے محروم، تعلیم و صحت کی سہولتوں اور روزگار کا فقدان۔۔ کیا نقص ہماری مٹی میں ہے یا اس فرسودہ نظام میں جسے ہم دہائیوں سے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں؟
آج پاکستان جس دوراہے پر ہے، وہاں روایتی سیاست اور جذباتی نعروں کی نہیں، بلکہ ایک سرجیکل سٹرائیک کی ضرورت ہے۔ ایک دو ٹوک فیصلہ جو دو ستونوں پر کھڑا ہے:
۱
ایک مضبوط صدارتی نظام کا نفاذ
۲
دوسرا چار صوبوں کو نئے اور چھوٹے انتظامی صوبوں میں تبدیل کرنا
آئیے حقائق کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی بقا اس نئے نظام میں کیوں پوشیدہ ہے۔؟
دنیا کا پانچواں بڑا ملک آج اپنے ہی وزن تلے دب رہا ہے۔ ہوشربا حقائق بتاتے ہیں کہ آبادی 25 کروڑ نفوس سے کراس کر چکی ہے۔ لیکن اس سمندر کو محض چار صوبوں میں قید رکھا گیا ہے۔ کیا یہ نوآبادیاتی ماڈل 21ویں صدی کے تقاضے پورے کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔
رقبے اور آبادی کا عدم توازن ملاحظہ کیجئے:
پنجاب 2 لاکھ 5 ہزار مربع کلومیٹر رقبہ، مگر آبادی کا بوجھ 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد (کئی یورپی ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ)۔
سندھ 1 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر رقبہ اور آبادی 5 کروڑ 56 لاکھ سے متجاوز۔
خیبر پختونخوا 1 لاکھ 1 ہزار مربع کلومیٹر رقبہ اور 4 کروڑ 8 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی۔
بلوچستان رقبے میں سب سے بڑا (3 لاکھ 47 ہزار مربع کلومیٹر) مگر آبادی محض 1 کروڑ 48 لاکھ۔ نفوس۔
ایک طرف پنجاب میں آبادی کا شدید دباؤ سانس روک رہا ہے، تو دوسری طرف بلوچستان کے وسیع رقبے میں انتظامی رسائی ایک کٹھن مرحلہ بن چکی ہے۔
موجودہ نظام کا سب سے خوفناک المیہ یہ ہے کہ ترقی، بجٹ اور سول سیکرٹریٹ صرف چار شہروں (لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ) تک محدود ہیں۔ جدید ہسپتال ہوں، یونیورسٹیاں ہوں یا روزگار۔۔۔ سب یہیں سمٹ گیا ہے۔
راجن پور کا کسان زمین کے انتقال کے لیے سیکڑوں کلومیٹر دور لاہور آتا ہے۔
تھرپارکر کا دل کا مریض علاج کے لیے کراچی کے دھکے کھاتا ہے۔
چترال کا رہائشی انصاف کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے چکر لگاتا ہے۔
گوادر کا شہری اپنے جائز حقوق کے لیے کئی دن کا صبر آزما سفر کر کے کوئٹہ پہنچتا ہے۔
یہ مجبوری کا سفر عوام کا وقت اور پیسہ ہی برباد نہیں کرتا، بلکہ ان میں احساسِ محرومی اور ریاست سے بیگانگی کو جنم دیتا ہے۔
دنیا پر نظر دوڑائیں تو ترکیہ کی ساڑھے 8 کروڑ آبادی کے لیے 81 صوبے ہیں، ایران میں 31 صوبے ہیں،بنگلہ دیش 8 انتظامی یونٹس میں تقسیم ہے، پڑوسی ملک بھارت میں 28 صوبے اور8 یونینز ہیں، 34 کروڑ سے زیادہ آبادی والے امریکہ میں 50 ریاستیں ہیں مگر ہم 25 کروڑ ہو کر بھی 4 صوبوں کی گاڑی کھینچ رہے ہیں۔ تھنک ٹینکس متفق ہیں کہ پاکستان میں فوری طور پر 12 سے 18 نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے چاہئیں۔
پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ابتدائی طورچار چار صوبے بنا کر ایسٹ، ویسٹ، نارتھ، ساوتھ کے ناموں کے ساتھ صوبوں کے اصل نام برقرار رکھے جاسکتے ہیں۔۔۔۔
یہ محض نقشے کی لکیریں نہیں ہوں گی۔ ہر نئے صوبے کی اپنی اسمبلی، اپنا سیکرٹریٹ، آزاد ہائی کورٹ، اور خود مختار پبلک سروس کمیشن ہوگا۔ ہر ڈیڑھ کروڑ عوام پر ایک ہسپتال، یونیورسٹی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
لیکن انتظامی اکائیوں کی یہ تقسیم تب تک بے معنی ہے جب تک مرکز میں ایک مستحکم حکومت نہ ہو۔ اور یہیں سے پارلیمانی نظام کا ناسور بے نقاب ہوتا ہے۔ اس نظام نے ہمیں عدم استحکام اور ڈکٹیٹرشپ کی مداخلت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر پاتا۔ بنیادی خامیاں کیا ہیں؟
الیکشن کمیشن میں 150 سے زائد سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں جو علاقائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر کھڑی ہیں۔
انتخابات کے بعد چند سیٹوں والے دھڑے "کنگ میکر" بن کر حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔
وزیراعظم کی توانائیاں ملک بنانے کی بجائے اتحادیوں کو خوش رکھنے میں ضائع ہوتی ہیں۔
مرکز اور صوبوں میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں مستقل محاذ آرائی کو جنم دیتی ہیں، جس سے قومی منصوبے تباہ ہو جاتے ہیں۔
ان حالات میں واحد حل ایک بااختیار صدارتی نظام ہے۔ ہم اسے اپنی نظریاتی اور سماجی اقدار کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
صدارتی نظام کے ذریعے دو جماعتی نظام کو فروغ دیا جاسکتا ہے، لسانی اور علاقائی بلیک میلنگ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی۔
میرٹ پر حکومت سازی ہوگی، پچیس کروڑ عوام کے ڈائریکٹ ووٹوں سے منتخب صدر پارلیمنٹ کی بلیک میلنگ کا محتاج نہیں ہوگا۔ وہ ماہرین اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ بنائے گا۔ وزارتیں سیاسی رشوت نہیں بنیں گی۔
یہ تاثر غلط ہے کہ صوبائی خودمختاری ختم ہو گی۔ نئے 12سے 18 صوبوں میں عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب "گورنرز" نظام چلائیں گے۔ یہ گورنرز مکمل بااختیار ہوں گے اور وفاق سے جڑے ہوں گے، جس سے مرکز اور صوبے کی لڑائی ختم ہو جائے گی۔
وقت آ گیا ہے کہ ریاستِ پاکستان عوام کی دہلیز تک پہنچے۔ ڈوبتی معیشت اور بکھرتا سماج گواہی دے رہا ہے کہ پارلیمانی نظام فیل ہو چکا ہے۔ ہمیں ایک ایسے مضبوط چیف ایگزیکٹو کی ضرورت ہے جو کڑے فیصلے کر سکے، اور ایسے نئے صوبوں کی ضرورت ہے جو غریب کے آنسو پونچھ سکیں۔
25 کروڑ عوام سے زائد کو 4 دارالحکومتوں اور بلیک میلنگ پر مبنی پارلیمنٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ طاقت کی نچلی سطح پر منتقلی اور صدارتی نظام کا نفاذ اب صرف آپشن نہیں۔۔۔ بلکہ پاکستان کی بقا کی آخری اور ناگزیر شرط ہے۔

NATIONAL REFORM PETITION

Over 2595,965 verified Pakistani citizens have already signed the official reform petition for New Provinces, a Presidential System, and Transparent Digital Governance.